بدھ 22 جولائی 2026 - 22:10
مسائل کا حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ بات چیت اور انصاف کے ذریعے تلاش کیا جائے

حوزہ/ دہلی جنتر منتر پر NEET امتحانات کے سوالات لیک ہونے کے خلاف جاری احتجاج پر گفتگو کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا اختر عباس جون نے حکومت کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ بات چیت اور انصاف کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دہلی جنتر منتر پر NEET امتحانات کے سوالات لیک ہونے کے خلاف جاری احتجاج پر گفتگو کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا اختر عباس جون نے حکومت کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ بات چیت اور انصاف کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں خودکشیوں، نوجوانوں اور کسانوں کے مسائل سمیت کئی سنگین چیلنجز موجود ہیں، لیکن حکومت ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے جنتر منتر پر ایک بزرگ شخص کی جانب سے 20 روزہ بھوک ہڑتال کے دوران حکومتی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد سے بات چیت کر کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ انہیں زبردستی ہسپتال منتقل کیا جائے۔

مولانا اختر عباس جون نے کہا کہ جن لوگوں نے علم، تعلیم اور سائنس کے میدان میں ملک و دنیا کے لیے خدمات انجام دی ہیں، ان کے ساتھ احترام اور گفتگو کا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت کے ماحول پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نفرت انسان کی فطرت نہیں ہے بلکہ محبت، ہمدردی اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ نفرتیں پیدا کی جاتی ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں ڈالی جاتی ہیں، لیکن یہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی انسان تکلیف میں ہوتا ہے یا کوئی پڑوسی پریشان ہوتا ہے تو انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ اس کی مدد کی جائے، نہ کہ اس کے مذہب یا عقیدے کے بارے میں سوال کیا جائے۔

مولانا اختر عباس جون نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حالات ہمیشہ برقرار نہیں رہیں گے اور ہر ظلم پر مبنی نظام ایک دن ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصل مسائل پر توجہ دے کر ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha